Hindi English
 
 
 

Share |
: مضمون
موئے مبارک،انوار وبرکات

یخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی رحمة اللہ علیہ

 

آپﷺ کے جسم مبارک کا ہر جزہمہ تن نور ہے:

آپﷺ کے جسم مبارک کا ہر جزہمہ تن نور ہے۔ جس کو اہل بصیرت جانتے ہیں اس میں وہ برکت اور فضیلت رکھی ہوئی ہے کہ کسی دوسری چیز میں نہیں۔ اس کو اپنے باطن میں پہنچانا باعث ترقی روحانی ہے، ان حضرات کے اس خیال پر یہ روایت بھی گواہ ہے جس کو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نےشفاءشریف میں نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے آنحضرتﷺ کے پیشاب مبارک کو پی لیا، آپ ﷺنے اس بی بی کو فرمایا کہ پیٹ کی بیماریوں کی شکایت اب تمہیں کبھی نہ ہوگی۔اس سے ثابت ہے کہ فضلات کی نسبت بھی صحابہ علیہم الرضوان کا یہی اعتقاد تھا کہ وہ سب تبرک ہیں۔ اور ارشاد نبویﷺ سے ثابت ہے کہ وہ دواء امراض جسمانی بھی ہیں جس کی بالطبع آدمی کو رغبت ہوا کرتی ہے جب ہم خیال کرتے ہیں کہ پینے کے وقت انہیں کوئی مرض لاحق نہ تھا جس کے علاج کااُ نہیں خیال آیا ہو۔ تو اس سے ظاہر ہے کہ ان حضرات کے عقیدہ میں یہ بات مستحکم تھی کہ وہ فضلات اپنی جان سے افضل اور باعث ترقی روحانی ہیں۔
بخاری شریف وغیرہ میں ہے کہ صحابہ جب آنحضرتﷺ کے روبرو بیٹھتے تو ایسے سر جھکائے ہوئے بیٹھتے تھے جیسے کسی کے سر پر پرندہ بیٹھا ہے اور وہ شخص اس خیال سے کہ کہیں وہ اڑ نہ جائے سر جھکائے ہوئے بیٹھتا ہے۔ اور کوئی شخص حضرتﷺ کے چہرہ مبارک کو آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ایسے مؤدب حضرات کے وہ خلاف شان اور گستاخانہ حرکات قابل تعجب ہیں اور اس پر سکوت اور رضا مندی حضرتﷺ کی اس سے زیادہ حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے ،مگر بات یہ ہے کہ صحابہ کے پیش نظر اس وقت یہ امر ہوتا تھا کہ اس پانی سے جو جسم مبارک تک پہنچ کرسراپا برکت ہوگیا تھا برکت حاصل کریں۔ اور وہ فضلات جس کو حضرتﷺ کے جسم مبارک سے متصل ہونے کی فضیلت حاصل ہوگئی تھی اپنے چہروں پر مل کر دارین میں سرخروئی حاصل کریں۔ اور ان اشیائے فاضلہ کے استعمال کی بدولت اپنے جسم میں یہ صلاحیت پیدا ہو کہ روح پر جو جسم سے متصل یا متعلق ہے اثر ڈالے اور اسکی ترقی کا باعث بنے۔
چونکہ آنحضرتﷺ کا مقصود اصلی یہی تھا کہ اہل ایمان کو ترقی روحانی حاصل ہو۔ اس لئے آپﷺ اس ظاہری بے ادبی کو نظر انداز فرمادیتے تھے اور یہ سکوت آنحضرتﷺ کا ان کو جرأت دلاتا تھا کہ دل کھول کر یہ کام کیا جائے ورنہ کس کی مجال تھی کہ حضور نبوی ﷺمیں ایسے بے ادبانہ حرکات کرسکتا۔ غرضکہ وہ فضلات بلا شبہ باعث ترقی روحانی سمجھے جاتے تھے۔ اب اہل انصاف غور فرمائیں کہ صحابہ ان فضلات کو اپنے سے افضل بلکہ باعث حصول فضیلت سمجھتے تھے اور صحابہ کے مقابلے میں اپنے آپ کو لاکر دیکھ لیا جائے کہ عقلا و شرعا وہ ہم سے افضل تھے یا نہیں؟ اسکے بعد خود فیصلہ ہوجائیگا کہ ہم تو کیا ہم سے افضل لوگوں سے وہ فضلات افضل تھے۔ اب جو لوگ آنحضرتﷺ کی ذات پاک کے ساتھ ہمسری کا دعویٰ رکھتے ہیں ان روایتوں کو پیش نظر رکھیں تو سمجھ جائیں گے کہ حضرتﷺ تو کہاں حضرت ﷺ کا بول وبراز بھی ہم سے بدر جہا افضل تھا۔

موئے مبارک روزانہ دست بدست

سب تقسیم ہوجاتے:
موئے مبارک کا حال حدیث موصوف سے معلوم ہوگیا کہ روزانہ جو وضو کے وقت گرتے وہ دست بدست تقسیم ہوجاتے تھے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اصلاح بنوارہے تھے اور صحابہ ارد گر بیٹھے نوبت بہ نوبت اپنے ہاتھ پھیلا پھیلا کر موئے مبارک کوحاصل کرتے تھے۔ ’’المواھب اللدنیہ‘‘ میں ’بخاری ‘و ’مسلم‘ سے منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں اصلاح بنوالی تو سر مبارک کے بال ایک ایک دو دو لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔ انتہی ملخصا۔
شارح زرقانیؒ نے لکھا ہے کہ ایک ایک دو دو بال تقسیم کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حاضرین کثرت سے تھے اور اس سے غرض یہ تھی کہ ہمیشہ ان کے پاس وہ برکت باقی رہے اور آئندہ کے لئے یاد گار ہو۔ ان احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ موئے مبارک اس غرض سے حاصل کیا کرتے تھے کہ بطور تبرک ان کو اپنے پاس رکھیں اور اپنے احباب میں تقسیم کریں وہ تبرکات کچھ تو اپنے ورثاء میں تقسیم کئے اور کچھ انہوں نے اپنے احباب کو دےدئے ہونگے اور خود صحابہ جب انکی قدر کرتے تھے تو وہ جن کے پاس گئے وہاں بھی بطور تبرکات رکھے جاتے تھے جیسا کہ اب تک باوجود تیرہ سو سال منقضی ہونے کے تبرکات ہی کی حیثیت سے رکھے جاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس موقع میں جہاں اس تعظیم وتوقیر کا منشاء قائم ہورہا تھا حضرتﷺ کا سکوت فرمانا اسی غرض سے تھا کہ اہل اسلام دل کھول کر ان تبرکات سے برکت حاصل کیا کریں، اور بڑی غرض اس سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو عشاق نبیﷺ دیدار جہاں آرا سے محروم ہیں وہ اس متبرک جز کو سر اور آنکھوں پر رکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کریں اور سر فراز ہوں۔ اب رہی یہ بات کہ بعض جعل سازوں نے بھی بغرض دنیوی کار سازیاں کی ہوں گی جس سے ہر ایک میں اشتباہ واقع ہو گیا تو وہ اصل مقصود کے منافی نہیں اس لئے کہ تعظیم کرنے والا اس کو موئے مبارک سمجھتا ہے اس کے اعتقاد کے مطابق خدائے تعالی اس کو برکت عطا فرمائیگا۔ جیسا کہ اس حدیث شریف سے بھی واضح ہوسکتا ہے۔(انما الاعمال بالنیات)۔

حسبِ عقیدت عطائے برکت

کنزالعمال کی ’’کتاب المواعظ والحکم‘‘ میں یہ حدیث شریف ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ خدائے تعالی کی طرف سے کسی کو فضیلت کی کوئی بات پہنچے اور اس کو ایمان کی راہ سے قبول کر لیا اور اس میں ثواب کی امید رکھی تو حق تعالی اس کووہی ثواب عطا فرمائیگا جو اس کو معلوم ہوا ہے۔ اگرچیکہ وہ خلاف واقع ہو۔ انتھی ملخصا۔
مقصود یہ کہ کسی روایت سے یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں کام میں فضیلت ہے گو اس کا ثبوت باضابطہ نہوا ہو مگر عمل کرنے والا اعتقاد سے اس پر عمل کرلے تو وہی ثواب پائیگا جو اس میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی بزرگ کے پاس موئے مبارک کی زیارت ہوتی ہو اور انہوں نے کہہ دیا کہ یہ موئے مبارک آنحضرتﷺ کا ہے تو اگر فی الواقع وہ حضرت ﷺ کا موئے مبارک نہ بھی ہو تو جو برکت اصلی موئے مبارک کی زیارت میں حاصل ہونے والی ہو وہی برکت اس موئے مبارک کی زیارت میں بھی حاصل ہوگی۔ یہ خدائے تعالی کا ایک فضل ہے جو بطفیل حبیب کریمﷺ آپ کی امت پر ہے واہی تباہی شبہات کی وجہ سے ایسی فضیلت سے محروم رہنا مقتضائے عقل نہیں۔ شیطان آدمی کا دشمن ہے ،وہ ہر گز نہیں چاہتا کہ کوئی فضیلت اور برکت کسی کو حاصل ہو۔ اس وجہ سے وہ ایسے شبہات پیش کرتا ہے جس کو عقل بھی مان لیتی ہے مگر ایمان آدمی کا مستحکم ہو تو دونوں کو جواب دیکر آدمی سعادت دارین حاصل کر سکتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ دنیا میں آنحضرتﷺ کے ہزارہا بلکہ لاکھوں لاکھ موئے مبارک موجود ہیں تو اب یہ خیال کرنے کی ضرورت ہی کیا کہ وہ کسی اور کا بال ہے۔ اگر صرف سو پچاس بال کا وجود احادیث سے ثابت ہو تا تو یہ کہنے کی گنجائش ہوتی کہ ہزار ہا موئے مبارک کہاں سے آگئے۔ جس کی زیارتیں ہورہی ہیں۔ میری دانست میں اس وقت موئے مبارک کی اس قدر کثرت نہیں جس قدر صحابہ کے زمانہ میں احادیث سے معلوم ہوتی ہے۔


پرستش قرار دے کر لوگوں کو زیارت سے روکنا

بہر حال موئے مبارک کی زیارت نہ کر کے اس برکت سے محروم رہنا جو صحابہ کے مد نظر تھی قرین مصلحت نہیں۔ بعض حضرات اس کو پرستش قرار دیکر لوگوں کو زیارت سے روکتے ہیں اگر ایسے امور پرستش قرار دئے جائیں تو ہندوؤں کا قول صادق آجائیگا کہ مسلمان بھی مثل دیول کے کعبے کے اطراف پھرتے ہیں اور اس کی پرستش کیا کرتے ہیں مگر ہندوؤں کے قول سے ہم ان امور کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتے جو بہ تعلیم آنحضرتﷺ ثابت ہوئے اور صحابہ ان پر عامل رہے ہیں۔


موئے مبارک کی برکت سے فتح ونصرت

’’تاریخ واقدی‘‘ وغیرہ میں مروی ہے کہ جب شام میں خالد بن الولید رضی اللہ عنہ جبلہ بن ایہم کی قوم کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے ایک روز تھوڑی فوج کے ساتھ مقابل ہوئے اور رومیوں کے بڑے افسر کو مارلیا اس وقت جبلہ نے تمام رومی اور عرب مستنصرہ کو یکبارگی حملہ کرنے کا حکم دیا صحابہ کی حالت نہایت نازک ہوگئی رافع ابن عمر طائی نے حضرت خالدؓ سے کہا: آج معلوم ہوتا ہے کہ ہماری قضا آگئی خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ کہتے ہو اسکی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی ٹوپی بھول آیا جس میں آنحضرتﷺ کے موئے مبارک ہیں۔ ادھر یہ حالت تھی اور ادھر رات ہی کو آنحضرتﷺ نے ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کو جو افسر فوج تھے خواب میں زجر فرمایا کہ تم اس وقت سوتے پڑے ہو اٹھو اور فواراً خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کی مدد کو پہنچو کفار نے ان کو گھیر لیا ہے۔ اگر تم اس وقت جاؤ گے تو وقت پر پہنچ جاؤگے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اسی وقت لشکر میں پکاردئے کہ جلد تیار ہو جاؤ چنانچہ وہاں سے وہ مع فوج یلغار روانہ ہوئے۔ راستے میں دیکھاکہ فوج کے آگے آگے نہایت سرعت سے ایک سوار گھوڑا دوڑائے ہوئے چلاجارہا ہے اسطرح کہ کوئی اس کو پہنچ نہیں سکتا۔ انہوں نے خیال کیا کہ شاید کوئی فرشتہ ہے جو مدد کے لئے جارہا ہے مگر احتیاطاً چند تیز رفتار سواروں کو حکم کیا کہ اس سوار کا حال دریافت کریں۔ جب قریب پہنچے تو پکار کر کہا کہ اے جواں مرد سوار ذرا توقف کر۔ یہ سنتے ہی وہ ٹہر گیا دیکھا تو خالد بن ولید کی بی بی تھیں۔ ان سے حال دریافت کیا کہا کہ اے امیر جب رات میں میں نے سنا کہ آپ نے نہایت بے تابی سے لوگوں سے فرمایا کہ خالد بن الولیدؓ کو دشمن نے گھیر لیاتو میں نے خیال کیا کہ وہ ناکام کبھی نہ ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ آنحضرتﷺ کے موئے مبارک ہیں مگر جب ادھر ادھر دیکھا تو ان کی ٹوپی پر نظر پڑی جس میں موئے مبارک تھے۔ نہایت افسوس سے میں نے ٹوپی لی اور اب چاہتی ہوں کہ کسی طرح اس کو ان تک پہنچادوں۔ ابوعبیدہ نے فرمایا: جلدی سے جاؤ خدا تمہیں برکت دے۔ چنانچہ انہوں نے گھوڑے کو ایڑ کیا اور آگے بڑھ گئیں۔ رافع بن عمر جو خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ کہتے ہیں کہ ہماری جب یہ حالت ہوئی کہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے تھے یکبار گی، تہلیل وتکبیر کی آواز آئی خالد رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے کہ یہ آواز کدھر سے آرہی ہے کہ یکبارگی روم کے سواروں پر نظر پڑی کہ بدحواس بھاگے چلے آرہے ہیں اور ایک سوار ان کا پیچھا کئے ہوئے ہے خالد رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑ ا کر اس سوار کے قریب پہنچے او رپوچھا کہ اے جواں مرد سوار تو کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں تمہاری بی بی ام تمیم ہوں ۔تمہاری مبارک ٹوپی لائی ہوں ،جس سےآپ دشمن پر فتح پا یا کرتے ہو تم نے اس کو اسی وجہ سے بھولا تھا کہ یہ مصیبت تم پر آنے والی تھی۔ الغرض وہ ٹوپی انہوں نے ان کو دی اس سے برق خاطف کی طرح نور نمایاں ہوا۔ راوی حدیث قسم کھا کر کہتے ہیں کہ خالدؓنے جب ٹوپی پہن کر کفار پر حملہ کیا تو لشکر کفار کے پیر اکھڑ گئے اور لشکر اسلام کی فتح ہوگئی۔ انتہی ملخصا۔
صحابہ رضی اللہ عنہم موئے مبارک میں جو برکت سمجھتے تھے سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ کیا چیز ہے حسی ہے یا معنوی اور بالوں کے اندر رہتی ہے یا سطح بالائی پر کتنی ہی موشگافیاں کیا کیجئے اس کا سمجھنا مشکل تھا۔ اس روایت سے سب مشکلات حل ہوگئیں۔ اور معلوم ہوگیا کہ مشکل سے مشکل کاموں میں آسانی اور جاں گداز واقعات میں امداد غیبی اس برکت کا ایک ادنی کرشمہ ہے۔ ’’شمس التواریخ‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے سارے فتوحات کے باعث یہی موئے مبارک ہوتے تھے۔ صاحب ’’الاصابۃ فی احوال الصحابہ‘‘ تحریر فرماتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں یہ ٹوپی سر پر نہ تھی جب تک نہیں ملی حضرت خالد رضی اللہ عنہ نہایت الجھن میں رہے ملنے کے بعد اطمینان ہوا۔ اس وقت آپ نے یہ ماجرا بیان فرمایاکہ کل فتوحات کا مدار ان موئے مبارک پر تھا۔ انتہی۔
غرض کہ یہ تبرکات وہ ہیں جو بڑی جاں فشانیوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے حاصل کئے اور اس کی حفاظت کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ایسے لوگ نہ تھے کہ فضول کام میں وہ اہتمام کرتے کہ دینی ضروریات سے بھی زیادہ ہو کیونکہ اس کے حاصل کرنے میں نوبت بہ جدال وقتال پہونچنے کو ہوتی۔ جیسا کہ لفظ حدیث کا دوا یقتلون سے ظاہر ہے بہ خلاف اس کے اور کسی دوسرے کام میں یہاں تک نوبت نہیں پہنچتی تھی۔ دیکھئے صف اول کی فضیلت ثابت ہے مگر جب یہاں تک نوبت پہنچی تو صاف ارشاد ہوگیا کہ صف ثانی میں بھی وہی فضیلت ہے اور اس جھگڑے کو یوں طے فرمادیا۔ بخلاف اس کے یہ حالت روزانہ ملاحظہ فرماتے اور خاموش رہ جاتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرتﷺ بھی اس اہتمام کو برانہیں سمجھتے تھے کیونکہ حضرت جانتے تھے کہ وہ برکات انکے دارین کی صلاح وفلاح کے باعث ہیں ایسی چیز سے انکو روکنا گویا ان کو سخت ضرر پہنچاناہے اور مقتضائے رحمت نبویﷺ یہ نہ تھا کہ اپنے جاں نثاروں کو کسی قسم کا ضرر پہنچائیں۔ اہل انصاف غور فرماسکتے ہیں کہ صحابہ کا ہم پر کیسا احسان ہے کہ کیسی مصیبت سے انہوں نے وہ تبرکات حاصل کئے اور ان کی حفاظت نسلا بعد نسل کر کے ہم تک پہنچایا مگر افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں ان کی کچھ قدر نہ ہوئی کیونکہ باپ دادا کی کمائی کی آدمی کو وہ قدر نہیں ہوتی جو اپنی کمائی کی ہوتی ہے۔ ’’تاریخ واقدی‘‘ میں لکھا ہے کہ
جنگ یرموک میں ایک روز خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ اپنی شجاعت بیان کرتے ہوئے لشکر کفار کی طرف بڑھے ادھر سے ایک پہلوان نکلا جس کا نام نسطور تھا اور دونوں کا دیر تک سخت مقابلہ ہورہا تھا کہ خالد رضی اللہ عنہ کا گھوڑا ٹھو کر کھا کر گرا اور خالد رضی اللہ عنہ اس کے سر پر آگئے اور ٹوپی زمین پر گر گئی نسطور موقع پاکر آپ کی پیٹھ پر آگیا اس حالت میں خالد رضی اللہ عنہ نے پکار کر اپنے رفقاء سے کہا کہ میری ٹوپی مجھے دوخدا تم پر رحم کرے ایک شخص آپ کی قوم بنی مخزوم سے تھا دوڑ کر ٹوپی دیدیا آپ نے اسکو پہن کر باندھ لیا اور نسطور پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کردیا۔ لوگوں نے اس واقعے کے بعد پوچھا کہ یہ آپ نے کیسی حرکت کی کہ دشمن قوی پیٹھ پر آپہنچا اور کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی اž

submit

  SI: 57   
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود وسلام سنتے ہیں  

  SI: 65   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے  

  SI: 41   
اذان کی برکت  

  SI: 47   
آشوب چشم کا فوراً دفع ہونا  

  SI: 68   
قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں  

  SI: 56   
تمام انبیاء و ملائک پر خصوصیت و عظمت آشکار  

  SI: 67   
سرکاردوعالم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف  

  SI: 13   
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول  

  SI: 60   
درود پڑھنے والے پر اللہ کی رحمتیں  

  SI: 64   
عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام  

Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved