Hindi English
 
 
 

Share |
: مضمون
عمل بالحدیث کی حقیقت﴿دوم﴾

غرضکہ جب امام صاحب نے تمام آیات و احادیث و آثار کو جمع کرکے ان سے مسائل جزئیہ کے استخراج کا بارگراں اپنے ذمہ لیا اور اس کام میں جس قدر ضرورتیں پیش آئیں سب کو نہایت اہتمام اور احتیاط سے پوری کیا توان کی محنت شاقہ کو کان لم یکن کرکے طے شدہ اُمور کو بے بضاعتی کی حالت میں ازسرنو شروع کرنا کس قدر بے ضرورت اور فضول ہے اگر اسی فقہ پر ظن غالب کرلیا جائے کہ تمام احادیث و آثار کا خلاصہ ہے تو اس کو تائید دینے والے بہت سے اکابر دین کی شہادتیں موجود ہیں بخلاف اس کے اب جو اجتہاد کیا جائے گا اس پر ہرگزحسن ظن نہیں ہوسکتا کہ وہ کل احادیث کا خلاصہ ہے اور جب تک کسی چیز پر ظن غالب نہ ہو وہ شریعت میں قابل اعتبار نہیں اسی وجہ سے امت مرحومہ میں مذاہب حقہ وہی چار تسلیم کئے گئے ہیں جن کی تدوین صحاح ستہ کی تدوین سے پہلے ہوچکی ہے جس زمانہ میں تقریباً کل صحیح حدیثیں موجود تھیں اور اس کے بعد مفقود ہوگئیں۔ مولانا شاہ ولی اللہ صاحبؒ انصاف میں لکھتے ہیں کہ اہل حق کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ واجب اصلی یہ ہے کہ امت میں ایک شخص ایسا ہو کہ احکام فرعیہ اور تفصیلیہ سے معلوم کرے چونکہ مقدمہ واجب ہے تو اگر کسی واجب کے حاصل کرنے کے کئی طریقہ ہوں تو کسی ایک طریقہ کا حاصل کرنا واجب ہوگا اور جب ایک ہی طریقہ اس کا معین ہوجائے تو صرف اسی طریقہ کو حاصل کرنا واجب ہے مثلاً کوئی شخص حالت مخمصہ میں مبتلا ہو جس سے خوف ہلاکت ہو تو اس مخمصہ کو دفع کرنے کے لئے غذا خریدے یا جنگل سے میوے وغیرہ چن کر کھائے یا شکار کرے غرضیکہ ان مختلف طریقوں سے کوئی ایک طریقہ دفع ہلاکت کے لئے اختیار کرناضروری ہوگا۔ اور اگر سب طریقہ مسدود ہوں اور ایک ہی طریقہ کھلا ہو مثلاً خریدی غذا کا تو اس پر واجب ہوگا کہ کچھ خرید کر کھائے۔ انتہی دیکھئے جب کل احادیث خصوصاً ناسخ حدیثوں کے حاصل کرنے کے سب طریقے مسدود ہوگئے اس لئے کہ لاکھوں حدیثیں مفقود ہوگئیں تو اب واجب یہی ہے کہ فقہ کی تقلید کی جائے جس کے خلاصہ احادیث ہونے کاظن غالب ہے کیوں کہ بخاری وغیرہ پر ظن غالب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کل احادیث کامجموعہ یا خلاصہ ہے یہی وجہ ہے کہ لاکھوں علماء باوجود یکہ صحاح ستہ کو خوب جانتے تھے مگر مذہب کی تقلید کرتے رہے۔

ترک تقلید:

یہاں یہ بات بھی معلوم کرنے کے لائق ہے کہ ابتدا کن لوگوں نے ترک تقلید کرکے خودسری اور تحقیق کا دعویٰ کیا۔ کتب احادیث و تواریخ سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ وہ تھے جن کو صحابہ نے خوارج کا لقب دیا تھا ہر چند اس لفظ کے اور بھی معنی ہیں مگر اس لحاظ سے بھی یہ لقب ان پر صادق آجاتا ہے کہ وہ تقلید سے خارج ہوگئے تھے بمناسب مقام تھوڑا سا حال ان کا یہاں لکھاجاتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں متعدد جنگیں ہوئیں اور تجویز قرارپائی کہ طرفین سے حکم مقرر ہوں اور ان کی رائے پر فیصلہ قرار پایا۔ یہ بات ان لوگوں کو ناگوار ہوئی جن کو کمال تقویٰ اور علم کا دعویٰ تھا وہ لوگ علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر سے یہ کہہ کر علحدہ ہوگئے کہ حکم کرنا خدائے تعالیٰ کا کام ہے جب علی رضی اللہ عنہ دوسرے کے حکم بننے پر راضی ہوئے تو وہ کافر حلال الدم ہوگئے اب ان کی اتباع اور تقلید جائز نہیں۔ ابوالفرح ابن جوزی نے تلبیس ابلیس میں لکھا ہے کہ یہ لوگ اپنے علم میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے زیادہ سمجھتے تھے ہر چند ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تمام مہاجرین و انصار ہیں جن میں قرآن نازل ہوا وہ تم سے زیادہ قرآن کے معنی جانتے ہیں ان کے جیسا ایک شخص بھی نہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور کئی سوال کئے جن میں ایک یہ تھا کہ خدائے تعالیٰ تو فرماتا ہے ان الحکم الا للہ اور علیؓ نے آدمیوں کو حکم مقرر کیا۔ آدمیوں کو حکم بننے سے کیا تعلق تلبیس ابلیس کی یہ عبارت ہے قالوا ما احدنہن فانہ حکم الرجال فی امراللہ و قال اللہ تعالیٰ ان الحکم الا للہ فماشان الرجال والحکم بعد قول اللہ اور اس میں لکھا ہے کہ خوارج میں سے حرقوص وغیرہ نے علی کرم اللہ وجہہ سے کہا لا حکم الا اللہ آپ نے بھی فرمایا لا حکم الا اللہ یہ سن کر اس نے کہا جب یہی بات ہے تو توبہ کرو اور اپنے فیصلہ سے رجوع کرو اور اگر ایسا نہ کروگے تو ہم تم سے جنگ کریں گے۔ لکھا ہے کہ جب جنگ شروع ہوئی تو خوارج کی فوج میں ہر ایک دوسرے سے کہتا تھا کہ تھئیو للقاء الرب الرواح الرواح الی الجنۃ۔ یعنی اپنے رب سے ملنے کے لئے آمادہ ہوجاؤ اور چلو جنت کی طرف جلدی چلو، بڑی عبرت کا مقام ہے کہ وہ کیسے قوی الایمان لوگ تھے کہ راہ خدا میں جان دینا ان پر ذر ابھی گراں نہ تھا بلکہ ان کے یہ چند گراں بہا معنی خیز الفاظ ان کے دلی ولولوں کو کس وضاحت سے بیان کررہے ہیں کہ ان کی عمر کا و ہ ایک ہی دن تھا جس میں عمر بھر کی سعی اور جانفشانیوں کا نتیجہ پیش نظر ہوگیا تھا ان کا ایمان اور صدق ہرگز گوارا نہیں کرتا تھا کہ وہ دن ٹل جائے موت کی تاخیر کو وہ ایک صدمہ جانکاہ سمجھتے تھے حوروقصور اور جنت کے تمام سامان پیش نظر ہوگئے تھے کہ اب کوئی دم میں وہاں پہنچ کر مصائب دنیوی سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کی ملاقات جس کی تمنا عمر بھر رہی اب ہونے کو ہے۔ مگر افسوس ہے کہ بزرگان دین کی توہین اور خودسری و ترک تقلید نے سب آرزوؤں کو خاک میں ملادیا اور بجائے جنت کے دوزخ کا مستحق بنادیا۔ اگر چوں و چرا کرکے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تقلید کرلیتے تو وہ آرزوئیں پوری ہوتیں بلکہ ان سے بھی زیاد کے مستحق ہوجاتے۔ (حقیقۃ الفقہ حصہ دوم صفحہ ۵۱ تا ۷۳)٭٭

submit

  SI: 57   
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود وسلام سنتے ہیں  

  SI: 65   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے  

  SI: 41   
اذان کی برکت  

  SI: 47   
آشوب چشم کا فوراً دفع ہونا  

  SI: 68   
قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں  

  SI: 56   
تمام انبیاء و ملائک پر خصوصیت و عظمت آشکار  

  SI: 67   
سرکاردوعالم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف  

  SI: 13   
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول  

  SI: 60   
درود پڑھنے والے پر اللہ کی رحمتیں  

  SI: 64   
عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام  

Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved